برطانیہ میں مقیم معروف پاکستانی نژاد یورولوجیکل سرجن پروفیسر ڈاکٹر محمد شبی احمد کو پاکستان کے ممتاز سول اعزاز تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز برطانیہ اور پاکستان میں طبی خدمات، جراحی کی تعلیم، فلاحی سرگرمیوں، انسانی خدمت اور بیرونِ ملک پاکستانی ڈاکٹروں کی معاونت کے اعتراف میں دیا گیا۔
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے ڈاکٹر محمد شبی احمد کو تمغۂ امتیاز عطا کیا۔ ان کے سرکاری اعزازی تعارف میں ان کی طبی جدت، یورولوجیکل سرجری، طبی تعلیم و تربیت، پیشہ ورانہ قیادت اور کم سہولیات والے علاقوں میں رضاکارانہ طبی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا گیا ہے۔
ڈاکٹر احمد کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے اور اس میں برطانیہ کے NHS میں کنسلٹنٹ یورولوجیکل سرجن کی حیثیت سے خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں فلاحی اور طبی منصوبوں میں فعال کردار بھی شامل ہے۔
ڈاؤ میڈیکل کالج سے برطانیہ کے NHS تک
پروفیسر ڈاکٹر محمد شبی احمد نے کراچی کے ڈاؤ میڈیکل کالج سے طبی تعلیم حاصل کی۔ پوسٹ گریجویٹ جراحی کی تربیت کے لیے وہ برطانیہ منتقل ہوئے اور بعد ازاں یورولوجی، خصوصاً اینڈویورولوجی اور پیشاب کی نالی میں پتھری کے کم سے کم مداخلتی علاج میں خصوصی مہارت حاصل کی۔
انہوں نے FRCS (Urology) 2015 میں حاصل کیا اور 2016 سے Sandwell and West Birmingham NHS Trust میں کنسلٹنٹ یورولوجیکل سرجن کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
وہ اس وقت Midland Metropolitan University Hospital سے وابستہ ہیں۔
پروفیشنل سطح پر بھی ڈاکٹر احمد نے اہم ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ وہ British Association of Urological Surgeons (BAUS) کے نائب صدر اور ٹرسٹی رہ چکے ہیں۔ ان کے سرکاری اعزازی تعارف کے مطابق وہ BAUS کی تقریباً ایک صدی پر محیط تاریخ میں اس کی کونسل کے لیے منتخب ہونے والے پہلے پاکستانی گریجویٹ تھے۔

گردے کی پتھری کے علاج میں نمایاں اور جدید خدمات
ڈاکٹر احمد کے طبی کیریئر کا ایک اہم شعبہ گردے اور یوریٹر کی پتھری کا کم سے کم مداخلتی علاج ہے۔
ان کی خصوصی مہارت میں شامل ہیں:
- یوریٹروسکوپی اور لیزر کے ذریعے پتھری توڑنا
- پرکیوٹینیئس کڈنی اسٹون سرجری
- Extracorporeal Shock-Wave Lithotripsy (ESWL)
- پیچیدہ گردے اور یوریٹر کی پتھری کا علاج
- ہولمیم لیزر تکنیک
- سپائن اور ٹیوب لیس پرکیوٹینیئس اسٹون سرجری
- مثانے کی بڑی پتھریوں کا علاج
- ٹرانسپلانٹ اور ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ والے مریضوں میں پتھری کا علاج
ان کی جدید جراحی تکنیکوں میں کام کو NHS کی ایک رپورٹ میں بھی نمایاں کیا گیا، جس میں گردے کی پتھری نکالنے کے لیے کم سے کم مداخلتی طریقۂ علاج کے نتیجے میں اسپتال میں قیام کی مدت میں نمایاں کمی کا ذکر کیا گیا تھا۔
اس طریقۂ علاج میں ایک باریک دوربین نما آلہ، یعنی نیفروسکوپ، ایک چھوٹے سے راستے کے ذریعے گردے تک پہنچایا جاتا ہے۔ اس کے بعد پتھری کو براہِ راست نکالا جا سکتا ہے یا لیزر اور دیگر توانائی کے ذریعے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر احمد کی اس شعبے میں خدمات کی اہمیت ان کے تمغۂ امتیاز کے سرکاری اعزازی تعارف میں بھی واضح طور پر تسلیم کی گئی ہے، جس میں پیشاب کی نالی کی پتھری کے لیزر علاج میں ان کی نمایاں خدمات اور پیچیدہ پتھری کے آپریشنز کے بعد اسپتال میں قیام کم کرنے میں ان کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے۔
وسیع تر یورولوجیکل مہارت
پتھری کے علاج کے علاوہ ڈاکٹر احمد یورولوجی کے متعدد دیگر شعبوں میں بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔
ان کی طبی دلچسپیوں میں:
- پروسٹیٹ کی بیماریاں
- پروسٹیٹ کینسر
- مثانے اور گردے کے امراض
- پیشاب میں خون آنا
- پیشاب کی نالی کے انفیکشنز
- مرد و خواتین میں پیشاب روک نہ پانا
- Overactive Bladder
- مثانے کی خرابی
- مردانہ بانجھ پن
- جنسی و erectile dysfunction
- عضوِ تناسل اور خصیوں سے متعلق امراض
شامل ہیں۔
پروسٹیٹ کے علاج میں وہ Holmium Laser Prostate Surgery، TURP، UroLift اور مناسب مریضوں کے لیے iTind جیسے طریقۂ علاج بھی استعمال کرتے ہیں۔
مثانے کے مسائل کے علاج میں Botox اور نیورو اسٹیمولیشن تھراپیز بھی ان کی طبی خدمات کا حصہ ہیں۔
ان کی جراحی خدمات میں ختنہ، ویسیکٹومی، ایپیڈیڈیمل سسٹ اور ہائیڈروسیل کا علاج، آرکیڈیکٹومی اور آرکیوپیکسی جیسے آپریشن بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے کم سہولیات والے علاقوں میں طبی خدمات
ڈاکٹر احمد کے کیریئر کا ایک نمایاں پہلو برطانیہ میں حاصل کردہ طبی مہارت کو پاکستان کے ان علاقوں تک پہنچانا ہے جہاں جدید خصوصی طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
جنوری 2019 میں ان کی فلاحی طبی سرگرمیوں کو برطانوی اخبار Sutton Coldfield Observer نے نمایاں کیا، جب انہوں نے Midland Doctors Association UK کے تحت مظفرآباد، کشمیر میں ایک طبی مشن میں حصہ لیا۔
اس مشن کے دوران ڈاکٹر احمد اور ان کی ٹیم نے متعدد مریضوں کا علاج کیا اور گردے کی پتھری، پروسٹیٹ کی بیماری اور مثانے کے ٹیومرز سمیت مختلف امراض کے آپریشن کیے۔
اس مشن کے دوران انہیں ایسے مریض بھی ملے جو کئی برسوں سے علاج کے منتظر تھے یا مہنگے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
ڈاکٹر احمد نے ایسے مشنز کو صرف مریضوں کے علاج تک محدود رکھنے کے بجائے مقامی ڈاکٹروں کے ساتھ علم اور جراحی مہارت شیئر کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
پاکستان بھر میں یورولوجسٹس کی تربیت
ڈاکٹر احمد کی رضاکارانہ خدمات کشمیر تک محدود نہیں رہیں۔
ان کے سرکاری تمغۂ امتیاز کے اعزازی تعارف کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران انہوں نے پاکستان کے مختلف علاقوں میں رضاکارانہ طور پر آپریشن کیے اور یورولوجسٹس کو تربیت فراہم کی۔
ان خدمات کا دائرہ:
اندرونِ سندھ، آزاد کشمیر، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا
تک پھیلا ہوا ہے۔
سرکاری تعارف میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ ان کوششوں نے ایسے علاقوں میں مفت اور جدید گردے کے علاج کی سہولیات قائم کرنے میں کردار ادا کیا جہاں پہلے اس نوعیت کی خدمات دستیاب نہیں تھیں۔
ان کی فلاحی وابستگیوں میں Indus Health Network، SIUT، Patients Welfare Association، Midland Doctors Institute اور UK Medical Aid for Pakistan شامل رہے ہیں۔
کووڈ کے دوران پاکستانی ڈاکٹروں کی مدد
ڈاکٹر احمد کی عوامی خدمت کا ایک اہم پہلو برطانیہ میں پاکستانی اور دیگر بیرونِ ملک سے آنے والے ڈاکٹروں کی معاونت بھی ہے۔
وہ Association of Pakistani Physicians of Northern Europe (APPNE) کے بانی اراکین میں شامل رہے اور بعد ازاں اس کے جنرل سیکریٹری بھی بنے۔
کووڈ-19 وبا کے دوران انہوں نے APPNE ٹاسک فورس کی قیادت کی، جس کا مقصد ان پاکستانی ڈاکٹروں کی مدد کرنا تھا جو ویزا مسائل، ملازمت میں رکاوٹوں اور طبی امتحانات کی معطلی کے باعث مشکلات کا شکار تھے۔
سرکاری اعزازی تعارف کے مطابق اس اقدام سے سیکڑوں نوجوان پاکستانی ڈاکٹروں کو مدد فراہم ہوئی۔ اس میں ویزا توسیع، روزگار کے مواقع اور لائسنسنگ امتحانات تک ترجیحی رسائی جیسی معاونت شامل تھی۔
NHS میں عدم مساوات کے خلاف آواز
کووڈ-19 کے دوران ڈاکٹر احمد نے نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے طبی عملے کو درپیش مسائل پر بھی آواز اٹھائی۔
انہوں نے خاص طور پر فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے لیے مناسب Personal Protective Equipment (PPE) کی دستیابی اور مساوی سلوک کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا۔
اس معاملے پر Channel 4 News نے بھی رپورٹ کیا، جس میں ایسے شواہد سامنے آئے کہ PPE کی کمی کے بارے میں خدشات اٹھانے والے سیاہ فام اور ایشیائی ڈاکٹروں کو امتیازی سلوک کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
ڈاکٹر احمد نے بعد ازاں برطانیہ میں ایشیائی اور بیرونِ ملک سے آنے والے ڈاکٹروں کو درپیش پیشہ ورانہ اور ذہنی دباؤ کے مسائل پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے BBC News Urdu کے ایک پروگرام میں بھی شرکت کی جس میں برطانیہ میں ایشیائی ڈاکٹروں کو درپیش دباؤ اور طبی شعبے میں خودکشی کے مسئلے پر بات کی گئی۔
طبی تعلیم میں کردار
ڈاکٹر احمد نے طبی تعلیم اور جراحی کی تربیت میں بھی طویل عرصے تک خدمات انجام دی ہیں۔
وہ Educational and Clinical Supervisor، Royal College Tutor اور examiner کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے برطانیہ میں مستقبل کے یورولوجسٹس کی تربیت کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی پوسٹ گریجویٹ طبی تعلیم میں کردار ادا کیا ہے۔
ان کے تعلیمی کرداروں میں Regional Advisor، College Tutor، MRCS Examiner اور SIUT میں Master of Surgery in Urology کے examiner کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔
ڈاؤ میڈیکل کالج کے سابق طلبہ کی یورپی تنظیم DOGANE کے سابق صدر کی حیثیت سے بھی انہوں نے پاکستان میں فلاحی منصوبوں، خصوصاً سول اسپتال کراچی سے متعلق اقدامات میں حصہ لیا۔
تمغۂ امتیاز: ڈاکٹر احمد کے لیے خصوصی اعزاز
ڈاکٹر محمد شبی احمد کے لیے تمغۂ امتیاز کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ اعزاز انہیں اسی ملک کی جانب سے ملا ہے جہاں وہ پیدا ہوئے، طبی تعلیم حاصل کی اور جس نے ان کے پیشہ ورانہ سفر کی بنیاد رکھی۔
اعزاز پر اپنے ردعمل میں ڈاکٹر احمد نے کہا:
“مجھے حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاکستان کے ممتاز قومی اعزاز، تمغۂ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ مجھے اس ملک کی جانب سے دیا گیا ہے جہاں میں پیدا ہوا اور جس نے مجھے آج جو کچھ میں ہوں، وہ بننے میں کردار ادا کیا۔”
انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز قومی اور بین الاقوامی فلاحی تنظیموں کے ساتھ ان کے کام، فنڈ ریزنگ، محروم برادریوں تک صحت کی سہولیات پہنچانے اور برطانیہ و پاکستان دونوں میں صحت کے شعبے کے لیے ان کی خدمات کا اعتراف ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور Civil Awards Committee کے چیئرمین پروفیسر احسن اقبال نے بھی ڈاکٹر احمد کو مبارک باد دی اور قومی اعزاز کے لیے ان کی سفارش کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
پروفیسر احسن اقبال نے ڈاکٹر احمد کی خدمات کو ان کی غیر متزلزل لگن، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی خدمت کے اعلیٰ معیار سے وابستگی کا عکاس قرار دیا۔
برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ایک مضبوط رشتہ
پروفیسر ڈاکٹر محمد شبی احمد کا کیریئر برطانیہ اور پاکستان کے درمیان طبی، تعلیمی اور انسانی خدمت کے مضبوط تعلق کی ایک نمایاں مثال ہے۔
مڈلینڈز میں جدید اور کم سے کم مداخلتی پتھری کی سرجری سے لے کر پاکستان کے کم سہولیات والے علاقوں میں آپریشن اور ڈاکٹروں کی تربیت تک؛ کووڈ-19 کے دوران پاکستانی ڈاکٹروں کی مدد سے لے کر NHS میں مساوات اور ڈاکٹروں کی فلاح و بہبود کے لیے آواز اٹھانے تک، ان کی خدمات کا دائرہ وسیع ہے۔
تمغۂ امتیاز ان کی صرف طبی مہارت کا اعتراف نہیں بلکہ اس وسیع تر عوامی خدمت کا بھی اعزاز ہے جس میں انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، تجربے اور روابط کو دوسروں کی بہتری کے لیے استعمال کیا۔
ڈاؤ میڈیکل کالج سے شروع ہونے والا ان کا طبی سفر برطانیہ کے NHS تک پہنچا، لیکن پاکستان کے ساتھ ان کا تعلق کبھی ختم نہیں ہوا۔ ان کی طبی خدمات، تعلیم، فلاحی سرگرمیاں اور پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے معاونت دونوں ممالک کے درمیان ایک مستقل پل کا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ایک برطانوی-پاکستانی ڈاکٹر کے لیے تمغۂ امتیاز اس طویل سفر کا قومی اعتراف ہے — ایسا سفر جس میں طب، تعلیم، جدت، قیادت اور عوامی خدمت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
