پاکستان سے انگلش فٹبال تک: معیز احمد مرزا نے پلےمتھ پارک وے فٹبال کلب کی نئی ذمہ داری سنبھال لی

لندن: پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاروباری شخصیت معیز احمد مرزا نے برطانیہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کویت میں تعلیمی کنسلٹینسی کے شعبے میں قدم رکھا، جہاں انہوں نے ہزاروں پاکستانی طلبہ کو دنیا کی مختلف یونیورسٹیوں تک رسائی اور رہنمائی فراہم کی۔ تعلیم کے بعد کھیلوں سے اپنی وابستگی کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کویت میں ایک کرکٹ کلب کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں، جبکہ اب ان کا سفر انگلش فٹبال تک پہنچ گیا ہے اور انہوں نے پلےمتھ پارک وے فٹبال کلب کے نئے اونر کی حیثیت سے کلب کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

لندن کے ایک ہوٹل میں پلےمتھ پارک وے فٹبال کلب کی سائننگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں اسٹیج سیکریٹری کے فرائض شعیب احمد راجپوت نے انجام دیے۔ تقریب میں صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس، انفلوئنسرز اور کمیونٹی کی نمایاں شخصیات سمیت بڑی تعداد میں مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز پلےمتھ پارک وے فٹبال کلب کی خصوصی ڈاکومنٹری کی نمائش سے ہوا، جس کے بعد کلب کے نئے اونر معیز احمد مرزا، چیئرمین مارک رسل اور وائس چیئرمین و بانی رکن جیز بیگَرٹ نے کلب کی موجودہ صورتحال، اغراض و مقاصد اور مستقبل کے لائحۂ عمل پر اظہارِ خیال کیا۔

پریس بریفنگ کے دوران مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے معیز احمد مرزا نے کہا کہ ان کا مقصد صرف ایک فٹبال کلب چلانا نہیں بلکہ پاکستان، کویت، برطانیہ اور مشرقِ وسطیٰ کی کمیونٹیز کو کھیل اور تعلیم کے ذریعے ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ ان کے مطابق فٹبال کو نوجوانوں کے لیے صرف کھیل نہیں بلکہ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور مستقبل کے مواقع کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔

معیز مرزا نے بتایا کہ کلب کے مستقبل کے منصوبوں میں برطانیہ کی مختلف یونیورسٹیوں اور فٹبال اکیڈمیز کے ساتھ روابط قائم کرنا، اسکالرشپ پروگرامز شروع کرنا اور پاکستانی و برطانوی پاکستانی نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو نوجوان پروفیشنل فٹبال میں جگہ بنانے میں کامیاب نہ بھی ہو سکیں، ان کے لیے کلب کے اندر میڈیا، کاروبار، مالیات، اسپورٹس سائنس اور دیگر شعبوں میں آگے بڑھنے کے راستے موجود ہونے چاہئیں۔

انہوں نے پاکستان کے فٹبال ٹیلنٹ کا خصوصی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لیاری جیسے علاقوں میں بے پناہ صلاحیت رکھنے والے نوجوان موجود ہیں اور مستقبل میں پاکستان کے فٹبال کلبوں اور مجوزہ فٹبال سپر لیگ کے ساتھ تعاون کے ذریعے کھلاڑیوں کے لیے دونوں ممالک میں تربیت، تجربے اور مہارت کے تبادلے کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ معیز مرزا نے پاکستانی اور برطانوی پاکستانی کھلاڑیوں کو پلےمتھ پارک وے کے پلیٹ فارم سے جوڑنے کے امکانات پر بھی بات کی۔

انہوں نے پاکستانی نژاد باصلاحیت فٹبالرز حارون حمید اور اوٹس خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں موجود باصلاحیت کھلاڑیوں کو مناسب مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق پلےمتھ پارک وے کے پلیٹ فارم کے ذریعے فٹبال میں زیادہ سے زیادہ تنوع لانے اور مختلف ملکوں سے بہترین ٹیلنٹ کو آگے آنے کا موقع دینے کی کوشش کی جائے گی۔

معیز مرزا نے بتایا کہ کلب کو آنے والے تین سے پانچ برسوں میں انگلش فٹبال کے اعلیٰ درجات تک لے جانے کا ہدف بھی ان کے وژن کا حصہ ہے، تاہم اس کے لیے کلب کو ایک مضبوط اور پائیدار کاروباری ماڈل کے تحت چلانا ضروری ہوگا۔ ان کے مطابق فٹبال کلب کے اخراجات وقت کے ساتھ بڑھتے ہیں، اس لیے مالی طور پر خود انحصار اور پائیدار نظام قائم کرنا بھی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

کھیلوں سے اپنی طویل وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے معیز مرزا نے بتایا کہ وہ انگلش فٹبال کے بڑے مداح رہے ہیں اور فٹبال کلب کا مالک بننا ان کے دیرینہ خوابوں میں شامل تھا۔ کویت میں کرکٹ کے شعبے سے وابستگی اور گزشتہ کئی برسوں سے کویت کرکٹ بورڈ کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کو بھی انہوں نے اپنے موجودہ سفر کا حصہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش کھیل کے ذریعے مختلف کمیونٹیز کو قریب لانا اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔

دوسری جانب پلےمتھ پارک وے فٹبال کلب کے وائس چیئرمین اور بانی رکن جیز بیگَرٹ نے کہا کہ وہ کلب کے قیام کے ابتدائی مراحل سے اس کے ساتھ وابستہ ہیں اور خود بھی فٹبال کھیل چکے ہیں۔ ان کے مطابق معیز مرزا سے شناسائی کو ابھی چند ہفتے ہی ہوئے ہیں، تاہم گراؤنڈ میں ملاقات کے بعد انہوں نے بہت تیزی سے کلب کے ماحول کو سمجھا اور ٹیم کے ساتھ گھل مل گئے۔ جیز بیگَرٹ نے واضح کیا کہ ان کے لیے پلےمتھ پارک وے محض ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ ایک کمیونٹی کلب ہے، جس کا مقصد لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا، نوجوانوں کو مواقع دینا اور فٹبال کے ذریعے کمیونٹیز کو قریب لانا ہے۔

کلب کے چیئرمین مارک رسل نے بتایا کہ جب انہوں نے کلب میں شمولیت اختیار کی تو بنیادی مقصد اسے موجودہ مقام سے آگے لے جانا اور ترقی کے مختلف مراحل سے گزارتے ہوئے سدرن پریمیئر لیگ تک پہنچانا تھا۔ ان کے مطابق کلب میں فٹبال کے ساتھ ایک مضبوط کاروباری سوچ متعارف کرانا بھی ضروری تھا، کیونکہ جیز بیگَرٹ کو فٹبال کا طویل تجربہ حاصل ہے جبکہ ان کا اپنا پس منظر کاروباری شعبے سے ہے۔

مارک رسل نے کہا کہ گزشتہ پانچ سے چھ برسوں کے دوران کلب نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے۔ ان میں معذوری کا سامنا کرنے والے بالغ افراد کی رہنمائی اور تربیت بھی شامل ہے تاکہ وہ فٹبال کوچ کے طور پر آگے بڑھ سکیں، جبکہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل برطانیہ میں ایک اسکالرشپ پروگرام بھی شروع کیا گیا جس کے تحت 16 سالہ نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ فٹبال کی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔

چیئرمین کے مطابق کلب کی سوچ صرف میدان تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں، کمیونٹی اور معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے تعلیم، تربیت اور آگے بڑھنے کے مواقع پیدا کرنا بھی اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے، اور مستقبل میں ان پروگراموں کو مزید وسعت دینے کی کوشش کی جائے گی۔

پلےمتھ پارک وے فٹبال کلب کی اس نئی شراکت داری کے ذریعے انگلش فٹبال، تعلیم اور پاکستانی و بین الاقوامی ٹیلنٹ کو ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش سامنے آئی ہے۔ معیز احمد مرزا کے لیے یہ صرف ایک کاروباری پیش رفت نہیں بلکہ فٹبال سے دیرینہ وابستگی کو ایک نئے مرحلے تک لے جانے کا سفر ہے، جبکہ کلب کی قیادت بھی اپنی کمیونٹی بنیاد کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم، تربیت اور نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کر رہی ہے۔

Leave a Reply

Discover more from Public Mirror

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading