برطانیہ ہائی الرٹ پر، روسی خطرے کے پیشِ نظر جنگی تیاریاں تیز

برطانیہ سمیت یورپ میں بڑھتے ہوئے دفاعی خدشات، روس کی فوجی سرگرمیوں، سائبر حملوں اور اہم قومی تنصیبات کو لاحق خطرات کے تناظر میں اکتوبر 2026 کے آخری ہفتے میں سامنے آنے والی متعدد رپورٹس نے سکیورٹی اور ہنگامی تیاریوں پر نئی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ برطانوی اخبار و نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، 27 اور 28 اکتوبر کو برطانیہ کی چار جوہری ڈیٹرنس آبدوزوں میں سے تین بیک وقت سمندر میں موجود تھیں؛ یہ ایک غیر معمولی صورتِ حال ہے، جس کی اطلاع Sky News، The Times اور دفاعی امور پر نظر رکھنے والے ادارے Navy Lookout نے دی۔ ان آبدوزوں کا تعلق وینگارڈ کلاس سے ہے اور یہ ٹرائیڈنٹ بیلسٹک میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں؛ ان میں سے کم از کم ایک کے معمول کے جوہری ڈیٹرنس گشت پر ہونے کی اطلاع ہے، جبکہ دوسری آبدوز ممکنہ طور پر اس کی جگہ گشت سنبھالنے کی تیاری اور تیسری سمندری آزمائش یا آپریشنل تیاریوں میں مصروف ہو سکتی ہے۔ چوتھی آبدوز، ایچ ایم ایس وکٹریئس، مرمت اور گہری دیکھ بھال کے لیے ڈیون پورٹ میں ہے۔ تاہم برطانوی وزارتِ دفاع نے ان آبدوزوں کی موجودہ سرگرمیوں کی تفصیلات کی تصدیق نہیں کی، اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ انہیں لازماً کسی فوری جنگ یا حملے کے باعث سمندر میں بھیجا گیا ہے؛ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معمول کی آپریشنل سرگرمیوں اور آبدوزوں کی دستیابی میں بہتری سے بھی متعلق ہو سکتا ہے۔ اسی دوران برطانوی وزیرِ دفاع ویس اسٹریٹنگ نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کو 2030 تک ممکنہ جنگی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہوگا، اور اس مقصد کے لیے ان کے بقول تقریباً ایک ہزار دن باقی ہیں؛ ان کا مؤقف ہے کہ روس سمیت مخالف قوتوں کی فوجی طاقت اور جنگی معیشت میں اضافے سے خطرات بڑھ سکتے ہیں، لیکن یہ بیان کسی طے شدہ جنگ کی تاریخ یا اس بات کا اعلان نہیں کہ 2030 تک جنگ لازماً شروع ہو جائے گی۔ برطانوی حکومت کی 2025 کی اسٹریٹجک ڈیفنس ریویو میں بھی روسی جارحیت، یورپ میں جاری جنگ، جوہری خطرات، سائبر حملوں، ڈرون ٹیکنالوجی اور زیرِ سمندر اہم مواصلاتی کیبلز و توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو قومی سلامتی کے اہم معاملات قرار دیا گیا ہے؛ جبکہ 26 اکتوبر 2026 کو برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور پولینڈ کے وزرائے دفاع کے مشترکہ بیان میں روس کو یورو اٹلانٹک سلامتی کے لیے ایک سنگین اور طویل مدتی خطرہ قرار دیتے ہوئے تخریب کاری، اتحادی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں اور ہائبرڈ حملوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔ دفاعی تیاریوں کے ساتھ برطانوی حکومت نے 22 اکتوبر 2026 کو تین سالہ “Be Ready” عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی، جس کا مقصد شہریوں کو ہنگامی حالات میں بنیادی سہولتیں متاثر ہونے کی صورت میں کم از کم تین دن تک اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل بنانا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ شدید موسم، سیلاب، بجلی یا پانی کی بندش، فون اور انٹرنیٹ کی خرابی یا دیگر ہنگامی حالات کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو سکتے ہیں؛ اسی لیے ہر فرد کے لیے روزانہ تقریباً تین لیٹر پینے کا پانی، تین دن کی ایسی خوراک جو جلد خراب نہ ہو اور جسے فریج یا پکانے کی ضرورت نہ پڑے، ٹارچ اور اضافی بیٹریاں، گرم کپڑے اور کمبل، بیٹری یا ہینڈل سے چلنے والا ریڈیو، چارج شدہ پاور بینک، نقد رقم، اہم دستاویزات کی نقول، ضروری فون نمبرز، ابتدائی طبی امداد کا سامان اور لازمی ادویات رکھنے کی سفارش کی گئی ہے؛ بچوں کے لیے فارمولا دودھ اور نیپیوں جبکہ پالتو جانوروں کے لیے خوراک اور پانی کا انتظام بھی فہرست میں شامل ہے۔ اہل شہریوں کو یوٹیلیٹی کمپنیوں کے Priority Services Register میں اندراج کرنے، گھر والوں کے ساتھ رابطے اور ملاقات کا متبادل منصوبہ بنانے اور ہنگامی سامان کی میعاد باقاعدگی سے جانچنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش کردہ سرکاری بیان کے مطابق تحقیق میں صرف 13 فیصد افراد نے خود کو ایسی ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار محسوس کیا جس میں ضروری خدمات منقطع ہو جائیں، جبکہ 84 فیصد نے کہا کہ حکومت کو تیاری کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرنی چاہییں۔ یورپ میں شہری تیاری کی یہ سوچ صرف برطانیہ تک محدود نہیں؛ سویڈن کی حکومت نے “In Case of Crisis or War” کے عنوان سے شہریوں کے لیے رہنما کتابچہ جاری کیا ہے، جس میں بحران، جنگ، دہشت گردی، سائبر حملوں اور غلط معلومات کی مہمات کے دوران تیاری اور ذمہ داریوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ سویڈن شہریوں کو کم از کم ایک ہفتے تک بنیادی ضروریات پوری کرنے کی تیاری کا مشورہ دیتا ہے، جبکہ یورپی یونین کی مارچ 2025 میں منظور کردہ Preparedness Union Strategy بھی قدرتی آفات، وباؤں، سائبر خطرات، توانائی اور مواصلاتی نظام میں خلل سمیت مختلف نوعیت کے بحرانوں کے لیے شہری، حکومتی اور ادارہ جاتی تیاری پر زور دیتی ہے۔ اس تمام صورتِ حال کا محتاط اور مستند خلاصہ یہ ہے کہ برطانیہ اپنی فوجی ڈیٹرنس، نیٹو تعاون اور شہری ہنگامی تیاری کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے، اور تین جوہری آبدوزوں کی بیک وقت سمندر میں موجودگی ایک قابلِ توجہ مگر غیر معمولی فوجی سرگرمی ہے؛ تاحال دستیاب معتبر رپورٹس اس بات کی تصدیق نہیں کرتیں کہ یہ تعیناتی کسی فوری جوہری حملے، اعلان شدہ جنگ یا برطانوی عوام کو جنگ کے لیے فوری انخلا کی تیاری کرانے کا ثبوت ہے۔ اس لیے جوہری آبدوزوں کی تصاویر، جنگ کے لیے تقریباً ایک ہزار دن کی وارننگ اور تین روزہ گھریلو ہنگامی سامان کی ہدایت کو ایک ہی واقعے کے طور پر پیش کرنے کے بجائے ان کے الگ الگ سیاق و سباق کو سمجھنا ضروری ہے۔

Leave a Reply